Sunday, 11 September 2016

سنگین فتنہ تحریک کو علما دیوبند کا جواب

سنگین فتنہ تحریک کو علما دیوبند کا جواب
ہمارے تمام مستند مدارس دار العلوم دیوبند، کراچی، بنوری ٹاؤن، مظاہر علوم سہارنپور، شاہی مراد آباد و دیگر تمامی معتبر اداروں کا یہ فتوی ہے کہ تبلیغی جماعت جماعت حقہ ہے. اس کے  نہج قدیم میں شرعا کوئی قباحت نہیں.. اس کے منافع ظاہر و باھر ہیں، جن کا انکار دن میں طلوع شمس کے انکار کے مرادف ہے..یہ عہد عتیق کی کوئی اساطیری   داستان نہیں جس کے لئے اثریات کے ماہرین کی شہادت ضروری ہو، یہ قافلہ شوق جہاں جہاں سے گزرا ہے وہاں وہاں اس کے نقش پا اب بھی محفوظ ہیں.. دیدہ بینا اسے دیکھ اور پڑھ سکتی ہے.. اس کے یہ زریں کارنامے ہم اہل دیوبند کے لئے سرمایہ افتخار ہیں...اس تحریک کی داغ بیل ہمارے اکابر علماء نے ڈالی تھی اور ہر دور میں ہمارے علماء نے خون جگر سے اس کی آبیاری کی ہے... جو غلو اس کے افراد میں مشاہد ہے اس کو بنیاد بنا کر پوری جماعت کو متہم کرنا اور اس کو ایک باطل فرقہ قرار دینا سفاہت ہے.... جو غلطیاں ہیں ان پر تنبیہ ضرور ہونی چاہیے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مخالفت میں حد سے تجاوز کیا جائے.. ....آپ نے جو یہ کتابیں بھیجیں ہیں..ان میں حق سے انحراف ہے.. اس میں تبلیغی جماعت کے بانی و سرخیل حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو نشانہ بنایا گیا ہے.. اور ان پر تحریف قرآن و سنت کا سنگین الزام دھرا گیا ہے جس وہ اور ان کی جماعت کے سمجھ دار لوگ مبرا ہیں... خدا را اس طرح کی کتابیں بھیج کر فتنہ انگیزی نہ کریں....ہمارے مفتیان کا اس سے متعلق فتوی راہ اعتدال ہے اس کی اتباع ہم پر لازم ہے.. شذوذ کا کوئی اعتبار نہیں، یہاں دو جماعتیں ہیں.. دونوں افراط و تفریط کا شکار ہیں.. ایک تو سرے سے تبلیغی جماعت کو ہی باطل فرقہ قرار دیتی ہے اور مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ہی مجرم قرار دیتی ہے اور نعوذ باللہ ان کو فکری گمراہ تک کہدیتی ہے.. دوسری جماعت ان غالی تبلیغ والوں کی ہے جو اپنی بین غلطیوں کی اصلاح تو کیا کرتے.. اصلاح کرنے والوں کا منہ نوچنے لگتے ہیں... اعتدال پسند رائے ہمارے اکابر علماء کی ہے... اس کے علاوہ سب بے بنیاد ہے

   محمد حيان قاسمی 

Wednesday, 8 June 2016

تراویح کے مسائل Taraweeh ke Masael Mufti Mahmood Hasan Gangohi


تراویح اور اس کے ضروری مسائل
 مفتی محمود حسن گنگوہی

مسئلہ:1…کُل تراویح حنفیہ کے نزدیک بیس رکعت ہیں اوران کو جماعت سے پڑھنا سنت ہے، اگر تمام اہل محلہ تراویح چھوڑ دیں تو سب ترکِ سنت کے وبال میں گرفتار ہوں گے ۔( کبیری)

مسئلہ:2 … گھر پر تراویح کی جماعت کرنے سے بھی فضیلت حاصل ہوجائے گی لیکن مسجد میں پڑھنے کا جو ستائیس درجہ ثواب ہے وہ نہیں ملے گا۔ ( کبیری)

مسئلہ:3 … تراویح کی جماعت عشاء کی جماعت کے تابع ہے(لہذا عشاء کی جماعت سے پہلے جائز نہیں) اور جس مسجد میں عشاء کی جماعت نہیں ہوئی وہاں پر تراویح کو بھی جماعت سے پڑھنا درست نہیں۔ (کبیری)

مسئلہ:4 … ایک شخص تراویح پڑھ چکا امام بن کر یا مقتدی ہو کر، اب اسی شب میں اس کو امام بن کر تراویح پڑھنا درست نہیں، البتہ دوسری مسجد میں اگر تراویح کی جماعت ہورہی ہو تو وہاں (بنیتِ نفل ) شریک ہونا بلا کراہت جائز ہے ۔( کبیری)

مسئلہ:5 … ایک امام کے پیچھے فرض اور دوسرے کے پیچھے تراویح اور وتر پڑھنا بھی جائز ہے۔ ( کبیری)

مسئلہ:6 … کسی مسجد میں ایک مرتبہ تراویح کی جماعت ہوچکی تو دوسری مرتبہ اُسی شب میں وہاں تراویح کی جماعت جائز نہیں لیکن تنہا تنہا پڑھنا درست ہے۔ (بحر)

مسئلہ:7 … نابالغ کو تراویح کے لیے امام بنانا درست نہیں۔ (کبیری)۔ البتہ اگر وہ نابالغوں کی امامت کرے تو جائز ہے۔ (خانیہ)۔

مسئلہ:8 … اگر اپنی مسجد کا امام قرآن شریف غلط پڑھتا ہو تو دوسری مسجد میں تراویح پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔(عالم گیری )

مسئلہ:9 … اجرت مقرر کر کے امام کو تراویح کے لیے بُلانا مکروہ ہے۔ (عالم گیری )

مسئلہ:10 … ہر ترویحہ پر یعنی چار رکعت پڑھ کر اتنی ہی دیر یعنی چار رکعت کے موافق جلسہٴ استراحت مستحب ہے، (اسی طرح پانچویں ترویحہ کے بعد وتر سے پہلے بھی جلسہ مستحب ہے، لیکن اگر مقتدیوں پر اس سے گرانی ہو تو نہ بیٹھے، (عالم گیری) اور اتنی دیر تک اختیار ہے کہ تسبیح ، قرآن شریف، نفلیں جو دل چاہے پڑھتا رہے، اہلِ مکہ کا معمول طواف کرنے اور دو رکعت نفل پڑھنے کا ہے اور اہلِ مدینہ کا معمول چار رکعت پڑھنے کا ۔( کبیری) اور یہ دعا بھی منقول ہے:
”سبحان ذي الملک والملکوت، سبحان ذي العزة والعظمة والقدرة والکبریاء و الجبروت، سبحان الملک الحي الذي لا یموت، سبوح، قدوس، رب الملائکة والروح، لاإلہ إلا الله، نستغفر الله نسألک الجنة، و نعوذ بک من النار“․ (شامي)

مسئلہ :11 … دس رکعت پر جلسہٴ استراحت کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (کبیری)

مسئلہ:12 … ہر شفعہ کے بعد دو رکعت علیحدہ علیحدہ پڑھنا بدعت ہے۔(کبیری)

مسئلہ:13 … کوئی شخص مسجد میں ایسے وقت پہونچا کہ تراویح کی جماعت شروع ہوگئی تھی تو اس کو چاہیے کہ پہلے فرض اور سنتیں پڑھے اس کے بعد تراویح میں شریک ہو اور چُھوٹی ہوئی تراویح دو ترویحوں کے درمیان جلسہ کے وقت پوری کرلے، اگر موقعے نہ ملے تو وتروں کے بعد پڑھے اور وتروں یا تراویح کی جماعت چھوڑ کر تنہا نہ پڑھے۔(کبیری)

مسئلہ:14 … اگر بعد میں معلوم ہوا کہ کسی وجہ سے عشاء کے فرض صحیح نہیں ہوئے، مثلاً: امام نے بغیر وضو پڑھائے یا کوئی رکن چھوڑ دیا تو فرضوں کے ساتھ تراویح کا بھی اعادہ کرنا چاہیے، اگر چہ یہاں وہ وجہ موجود نہ ہو۔ (کبیری)

مسئلہ:15 … قیامِ لیلِ رمضان یا تراویح یا سنتِ وقت یا صلوة امام کی نیت کرنے سے تراویح ادا ہوجائیں گی۔ (خانیہ)

مسئلہ:16 … مطلقاً نماز یا نوافل کی نیت پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ (خانیہ)

مسئلہ:17 … اگر کسی نے عشا کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں اور امامِ تراویح کے پیچھے سنتِ عشاء کی نیت کر کے اقتدا کیا، تو یہ جائز ہے ۔(خانیہ)

مسئلہ:18 … اگر امام دوسرا یا تیسرا شفعہ پڑھ رہا ہے اور کسی مقتدی نے اس کے پیچھے پہلے شفعہ کی نیت کی، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (خانیہ)

مسئلہ:19 … اگر تراویح کسی وجہ سے فوت ہوجائیں تو ان کی قضاء نہیں، نہ جماعت کے ساتھ، نہ بغیر جماعت کے، اگرکسی نے قضاء کی تو تراویح نہ ہونگی ،بلکہ نفلیں ہونگی۔ (بحر)

مسئلہ:20 … اگر یاد آیا کہ گذشتہ شب کوئی شفعہ تراویح کا فوت ہوگیا یا فاسد ہوگیا تھا تو اس کو بھی جماعت کے ساتھ تراویح کی نیت سے قضاء کرنا مکروہ ہے ۔ (خانیہ)

مسئلہ:21 … اگر امام نے دو رکعت پر قعدہ نہیں کیا، بلکہ چار پڑھ کر قعدہ کیا تو یہ اخیر کی د ورکعت شمار ہوں گی۔(کبیری)

مسئلہ:22 … اگر وتر پڑھنے کے بعد یاد آیا، ایک شفعہ مثلاً رہ گیا، تو اس کو بھی جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

مسئلہ:23 … اگر بعد میں یاد آیا کہ ایک مرتبہ صرف ایک ہی رکعت پڑھی گئی اور شفعہ پورا نہیں ہوا اور کل تراویح انیس ہوتی ہیں تو دو رکعت اَور پڑھ لی جائے، یعنی صرف شفعہ فاسدہ کا اعادہ ہوگا اور اس کے بعد کی تمام تراویح کا اعادہ نہ ہوگا۔ (کبیری)

مسئلہ:24 … جب شفعہٴ فاسدہ کا اعادہ کیا جائے تو اس میں جس قدر قرآن شریف پڑھا تھا، اس کا بھی اعادہ کرنا چاہیے تاکہ تمام قرآن شریف صحیح نماز میں ختم ہو۔ (خانیہ)

مسئلہ:25 … اگرتمام نمازیوں اور امام کو شک ہوا کہ18 تراویح ہوئی ہیں یا بیس پوری ہوگئیں تو دو رکعت بلا جماعت اَور پڑھ لی جائیں۔ (کبیری)

مسئلہ:26 … اگر تمام مقتدیوں کو تو شک ہوا، لیکن امام کو شک نہیں ہوا، بلکہ کسی ایک بات کا یقین ہے تو وہ اپنے یقین پرعمل کرے اور مقتدیوں کے قول کی طرف کوئی توجہ نہ کرے۔ (کبیری)

مسئلہ:27 … اگر بعض کہتے ہیں کہ بیس پوری ہوگئیں اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ اٹھارہ ہوئی ہیں، تو جس طرف امام کا رجحان ہو اس پر عمل کرے ۔ (کبیری)

مسئلہ:28 … اگر اٹھارہ پڑھ کر امام سمجھا کہ بیس پوری ہوگئیں اور وتروں کی نیت باندھ لی ،مگر دو رکعت پڑھ کر یاد آیا کہ ایک شفعہ تراویح کا باقی رہ گیا ہے، جب ہی دو رکعت پر سلام پھیر دیا، تو یہ شفعہ تراویح کا شمار نہ ہوگا۔ (خانیہ)

مسئلہ:29 … اگر کسی کی صبح کی نماز قضاء ہوگئی تھی، اس کی نیت سے تراویح پڑھی ،تو یہ تراویح ادا نہ ہوں گی۔(خانیہ)

مسئلہ:30 … اگرتین رکعت پر سلام پھیر دیا تو دو رکعت پر اگر بیٹھ چکا تھا تب تو ایک شفعہ صحیح ہوگیا اور چوں کہ دوسرا شفعہ شروع کر چکا تھا، اس لیے اس کی قضاء ہوگی۔

مسئلہ:31 … اگر دو رکعت پر نہیں بیٹھا تو پہلا شفعہ بھی صحیح نہیں ہوا، لہٰذا اس کی قضاء ضروری ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ:32 … بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے سے تراویح ادا ہوجائے گی، مگر ثواب نصف ملے گا۔ (عالم گیری)

مسئلہ:33 … اگر امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھائے، تب بھی مقتدیوں کو کھڑے ہوکر پڑھنا مستحب ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ:34 … جماعت ہورہی ہے اور ایک شخص بیٹھا رہتا ہے، جب امام رکوع میں جاتا ہے تو فوراً یہ بھی نیت باندھ کر امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہوجاتا ہے، یہ فعل مکروہ ہے اور تشبہ بالمنافقین ہے۔(کبیری)

مسئلہ: 35 … جس شخص پر نیند کا غلبہ ہو اس کو چاہیے کہ کچھ دیر سو رہے، اس کے بعد تراویح پڑھے۔ (شامی)

مسئلہ: 36 … تراویح کو شمار کر تے رہنا مکروہ ہے، کیوں کہ یہ اُکتا جانے کی علامت ہے ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 37 … مستحب یہ ہے کہ شب کا اکثر حصہ تراویح میں خرچ کیا جائے ۔ (بحر )

مسئلہ: 38 … ایک مرتبہ قرآن شریف ختم کرنا(پڑھ کر یا سن کر) سنت ہے، دوسری مرتبہ فضیلت ہے اور تین مرتبہ افضل ہے، لہٰذا اگر ہر رکعت میں تقریباً دس آیتیں پڑھی جائیں، تو ایک مرتبہ بسہولت ختم ہوجائے گا اور مقتدیوں کو بھی گرانی نہ ہوگی ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 39 … جو لوگ حافظ ہیں ان کے لیے فضیلت یہ ہے کہ مسجد سے واپس آکر بیس رکعت اَور پڑھا کریں تاکہ دو مرتبہ ختم کرنے کی فضیلت حاصل ہوجائے ۔ (خانیہ)

مسئلہ:40 … ہر عشرہ میں ایک مرتبہ ختم کرنا افضل ہے۔ (بحر)

مسئلہ: 41 … اگر مقتدی اس قدر ضعیف اور کاہل ہوں کہ ایک مرتبہ بھی پورا قرآن شریف نہ سن سکیں بلکہ اس کی وجہ سے جماعت تک چھوڑدیں تو پھر جس قدر سننے پر وہ راضی ہوں اُس قدر پڑھ لیاجائے، یا ”ألم ترکیف“ سے پڑھ لیا جائے ، ب(بحر) لیکن اس صورت میں ختم کی سنت کے ثواب سے محروم رہیں گے ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 42 … ستائیسویں شب کو ختم کرنا مستحب ہے۔ (بحر)

مسئلہ: 43 … اگر اپنی مسجد کا امام قرآن شریف ختم نہ کرے تو پھر کسی دوسری مسجد میں جہاں پر ختم ہو، تراویح پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (کبیری )، کیوں کہ ختم کی سنت وہیں حاصل ہوگی۔

مسئلہ: 44 … تراویح میں ایک مرتبہ سورت کے شروع میں ”بسم الله الرحمن الرحیم“کو بھی زور سے تمام قرآن شریف کی طرح پڑھنا چاہیے، آہستہ پڑھنے سے امام کا تو قرآن شریف پورا ہوجائے گا مگرمقتدیوں کا پورا نہ ہوگا۔ (أحکام البسملة)․

مسئلہ: 45 … اگر کوئی آیت چھوٹ گئی اور کچھ حصہ آگے پڑھ کر یاد آیا کہ فلاں آیت چھوٹ گئی ہے تو اس کے پڑھنے کے بعد آگے پڑھے ہوئے حصہ کااعادہ بھی مستحب ہے۔ (عالم گیری)

مسئلہ: 46 … امام نے جب سلام پھیرا تو مقتدیوں میں اختلاف ہواکہ دو رکعت ہوئی ہیں، یا تین؟ تو جس طرف امام کا رجحان ہو اس پرعمل کرے ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 47 … کسی چھوٹی سورت کا فصل کرنا دو رکعت کے درمیان فرائض میں مکروہ ہے، تراویح میں مکروہ نہیں۔ (بحر)

مسئلہ: 48 … اگر مقتدی ضعیف اور سست ہوں کہ طویل نماز کا تحمل نہ کرسکتے ہوں، تو درود کے بعد دعاء چھوڑ دینے میں مضائقہ نہیں، لیکن درود کو نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ (عالم گیری )

مسئلہ: 49 … کوئی شخص ایسے وقت جماعت میں شریک ہوا کہ امام قراء ت شروع کرچکا تھا، تو اب اس کو ”سبحانک اللہم“ نہیں پڑھنا چاہیے۔(کبیری)

مسئلہ: 50 … اگر مسبوق نے امام کے ساتھ یا امام سے کچھ پہلے بھول کر سلام پھیردیا تو اس پر سجدہ سہو واجب نہیں اور امام کے لفظ ”السلام“ کہنے کے بعد سلام پھیرا ہے تو اس پر سجدہٴ سہو واجب ہے۔ (محیط )

مسئلہ: 51 … مسبوق اپنی نماز تنہا پوری کرنے کے لیے نہ اٹھے، جب تک کہ امام کی نماز ختم ہونے کا یقین نہ ہوجائے ،( محیط) کیوں کہ بعض دفعہ امام سجدہٴ سہو کے لیے سلام پھیرتا ہے اور مسبوق اس کو ختم کا سلام سمجھ کر اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں فوراً لوٹ کر امام کے ساتھ شریک ہوجانا چاہیے ۔

مسئلہ: 52 … اگر کوئی شخص ایسے وقت آیا کہ امام رکوع میں تھا، یہ فوراً تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں شریک ہوا اور جب ہی امام نے رکوع سے سر اٹھا لیا، پس اگر سیدھا کھڑا ہو کر تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں گیا تھا اور رکوع میں جھکنے سے پہلے پہلے الله اکبر کہہ چکا تھا اور کمر کو رکوع میں برابر کرلیا تھا اس کے بعد اما م نے رکوع سے سر اٹھایا ہے، تب تورکعت مل گئی، تسبیح اگر چہ ایک مرتبہ بھی نہ کہی ہو اور اگر امام کے سر اٹھانے سے پہلے رکوع میں کمر کو برابر نہیں کرسکا، تو رکعت نہیں ملی۔ اور اگرتکبیر سیدھے کھڑے ہوکر نہیں کہی، بلکہ جھکتے ہوئے کہی اور رکوع میں پہنچ کر ختم کی ہے، تو یہ شروع کرنا ہی صحیح نہیں ہوا۔(محیط )

مسئلہ: 53 … اگر کوئی شخص رکوع میں آکر شریک ہوا، مگررکوع اس کو نہیں ملا، تب بھی سجدہ میں امام کے ساتھ شریک ہونا اس پر واجب ہے لیکن اگر سجدہ میں شریک نہ ہوا، بلکہ سجدہ کے بعد امام کے ساتھ شریک ہوا ، تب بھی اس کی نماز فاسد نہ ہوگی۔( بحر)

مسئلہ: 54 … اگر قیام میں امام کے ساتھ شریک ہوگیا مگر رکوع امام کے ساتھ نہیں کیا ، بلکہ رکوع امام کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کیا تب بھی رکعت مل گئی۔ (محیط )

مسئلہ: 55 … اگر رکوع میں امام کے ساتھ آکر شریک ہوا اور صرف ایک ہی تکبیر کہی، تب بھی نماز صحیح ہوگئی ، اگر چہ اس تکبیر سے رکوع کی تکبیر کی نیت کی ہو اور تکبیر تحریمہ کی نیت نہ کی ہو، اس نیت کا اعتبار نہ ہوگا۔( فتح القدیر)۔ بشرطیکہ تکبیر کھڑے ہوکر کہی ہو رکوع میں نہ کہی ہو۔

مسئلہ: 56 … آیت سجدہ پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدہ ٴ تلاوت واجب ہوتا ہے۔( محیط)

مسئلہ: 57 … سورہ حج میں پہلا سجد ہ واجب ہے ، دوسرا نہیں۔ (محیط)

مسئلہ: 58 … اگر خارجِ نماز آیتِ سجدہ کی تلاوت کی، مگر سجدہ نہیں کیا، نماز میں وہی آیت پڑھی اور سجدہ کیا تو یہ سجدہ دونوں دفعہ کی تلاوت کے لیے کافی ہے اگر پہلے سجدہ کرلیا تھا تو اب دوبارہ بھی سجدہ کرنا چاہیے ۔ (محیط )

مسئلہ: 58 … اگرامام نے آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کیا اور کوئی شخص آیتِ سجدہ سن کر امام کے ساتھ اس سجدہ کے بعد اسی رکعت میں شریک ہوگیا، تو اس کے ذمہ سے یہ سجدہ ساقط ہوگیا، اگر اس رکعت میں شریک نہیں ہوا تو اس کو خارجِ صلوة علیحدہ سجدہ کرنا چاہیے۔( محیط)

مسئلہ: 59 … آیتِ سجدہ کے بعد فورا ً ہی سجدہ کرنا افضل ہے، لیکن اگر نماز میں آیتِ سجدہ کے بعدسجدہ نہ کیا، بلکہ رکوع کیا اور اس میں اس سجدہ کی نیت کرلی، تب بھی سجدہ ادا ہوجائے گا، اگر رکوع میں نیت نہیں کی، تو اس کے بعد سجدہ نماز سے بلا نیت بھی ادا ہوجائے گا، یہ جب ہے کہ آیتِ سجدہ کے بعد تین آیتوں سے زیادہ نہ پڑھا ہو، اگر آیت سجدہ کے بعد تین آیتوں سے زیادہ پڑھ چکا ہو، تو اب اس سجدہ کا وقت جاتا رہا، نہ نماز میں اداہوسکتا ہے نہ خارج نماز، توبہ و استغفار کرنا چاہیے ۔ (محیط )

مسئلہ: 60 … اگرآیت سجدہ (جو کہ سورت کے ختم پر ہے) پڑھ کر سجدہ کیا تو اب سجدہ سے اٹھ کر فوراً رکوع نہ کیا جائے (اس خیال سے کہ سورت تو ختم ہوہی گئی ) بلکہ تین آیت کی مقدار پڑھ کر رکوع کرنا چاہیے۔ 
(محیط)




 سب سے پہلےتو یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ مشہور حدیث علیکم بسنتی وسنت خلفاالراشیدین المہدیین کی روشنی میں خلفاء راشیدین کے زمانے میں جاری اعمال بھی سنت کے دائرے میں اتے ہیں.تراویح بھی ان ہی اعمال میں سے ہے.جمعہ کےنماز کے لئے ایک اور اذان بھی اس کی ایک مثال ہے.دونوں سنت ہیں.
جن صحابہ کے بارے میں یہ آتا ہے کہ وہ عموما مساجد کی تراویح میں نہیں ہوتے تھے .ان کے بارے میں دیگر روایات بتاتی ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں طویل قیام کے ساتھ رات بھر تراویح ونوافل میں مشغول رہتے تھے.
آج بھی اگر کوئی عشا کئ نماز مسجد میں ادا کر کے اپنے گھر میں تراویح کا اہتمام کرتا ہے تو اس کی اجازت ہے.

Saturday, 4 June 2016

دارالعلوم دیوبند اور تبلیغ ودعوت

ہندوستان میں دینِ اسلام کی دو عظیم تحریکیں

دارالعلوم دیوبند اور تبلیغ ودعوت


از:           ابواللیث الحسنی کھگڑیاوی            
متعلّم دارالعلوم دیوبند                

                ہرچند کہ مشرق اسلامی کے اس علاقے میں بھی، جو مطلع اسلام، مہبط وحی الٰہی، بعثت گاہِ نبی اعظمﷺ سے دور افتادہ ہے، ماضی بعید سے ہی، اسلامی تعلیمات واحکامات پڑھنے، پڑھانے اور اسلامی تبلیغ ودعوت پھیلانے، اپنانے، آنکھوں سے لگانے، دل میں بسانے اور اس کی ہمہ گیر خدمتوں کا پرعزم حوصلہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے؛ چناںچہ دینی شعور اور اسلامی تہذیب وتمدن اور اس کے تحفظ وبقاء کے لیے اس روئے زمین پر دو اہم اور بڑی تحریکیں ہیں:
                (۱)          دارالعلوم دیوبند          (۲)         تبلیغ ودعوت
                بلاتعیین رتبہ دونوں اسلامی دنیا کی عظیم تحریکیں ہیں؛ بل کہ دونوں اغراض ومقاصد کے لحاظ سے انتہائی قریب ترہیں۔ یہاں یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں مکتب فکر کی وضاحت اور ان کے مقصد اولیں کی طرف قدرے اشارہ کروں۔
دارالعلوم دیوبند اور اس کا نصب العین
                دارالعلوم دیوبند بلاشک وشبہ کتاب وسنت کا امین، متاع دین ودانش کا نگہبان، اسلامی تعلیمات وروایات کا پاسبان، علم وعرفان کا سنگم، ہندوستان میں تحفظ دین کی اولیں کوشش کا مظہر جمیل، علمائے حق کے جذبۂ ایثار وقربانی کی لازوال یادگار، اکابر کی آہ سحرگاہی ودعائے نیم شبی کا ثمرہ اور اسلام کے تحفظ وبقا کا مرکز ہے، یہی اس عظیم ادارے کی تحریک کے اغراض ومقاصد ہیں، جن کو بالفاظ دیگر، حضرات اکابر کی مختلف تحریرات اور دارالعلوم دیوبند کے قدیم دستور اساسی کی روشنی میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند اور اس جیسے دینی ادارے کا نصب العین قرآن کریم، حدیث، فقہ، عقائد ودیگر اسلامی علوم وفنون کی تعلیم دینا مسلمانوں کو مکمل اسلامی معلومات فراہم کرنا، اسلامی اخلاق واعمال کو عام کرنا، طلبہ میں اسلامی روح پیدا کرنا، تقریر وتحریر کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ واشاعت کرنا، اسلام کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا وغیرہ وغیرہ(۱)
دعوت وتبلیغ کی حقیقت وضرورت
                وہ مقدس ہستیاں، جو لوگوں کو تاریکی سے نور کی طرف، گمراہی سے ہدایت کی طرف، تنگی سے کشادگی کی طرف، ظلم و زیادتی سے عدل وانصاف اور حیوانیت وشیطانیت سے ہٹاکر انسانیت واعزازیت کی طرف نکالنے کے لیے پیداکی گئی، ان کا دعوتی مشن، فکری کڑھن اور اصلاحی لگن ،  وہی ہے، جس کو ہم آج دعوت وتبلیغ کے عنوان سے موسوم کرتے ہیں۔ یقینا یہ دعوت وتبلیغ تمام انبیاء علیم الصلاۃ والسلام کا طرئہ امتیازہے، اور پھر انسانی، طبعی، عقلی اور شرعی جملہ حیثیتوں سے بھی یہ ضروری ہے کہ عام خلائق کی صلاح وفلاح اور اس کی دنیاوی واخروی بہبودی کے لیے فکر کیاجائے اور اس بہبودی وہمدردی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں کسی جاہ طلبی اور عہدہ مقصود نہ ہو، تو اس میں اسی قدر نفع عام ہوگا، خیریت وہدایت بڑھے گی اور نہ جانے کس قدر پروردگار عالم کے یہاں انعام واکرام میں اضافہ ہوگا۔(۲)
دارالعلوم دیوبند اور تبلیغ ودعوت
                دارالعلوم دیوبند تاریخ کے لحاظ سے موجودہ دعوت وتبلیغ پر مقدم ہے؛ کیوںکہ دارالعلوم دیوبند کا قیام ۱۵؍محرم الحرام ۱۲۸۳ھ مطابق ۳۰؍مئی ۱۸۶۶ء میں عمل میں آیا۔(۳) جب کہ وہ تبلیغ ودعوت ، جو برسوں سے پژمردہ ہوگئی تھی، اسے اللہ نے دارالعلوم دیوبند ہی کے فرزند مبلغ اسلام حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی محنت وکوشش کے نتیجے میں دوبارہ زندہ کیا، جو تقریباً تیرہویں صدی ہجری کا زمانہ ہے(۴)، گویا یہ تبلیغ کی موجودہ شکل دارالعلوم دیوبند کی ہی فکری اساس کی ایک عظیم تحریک ہے، جو دوسری شکل میں وجود میں آئی؛ خلاصہ یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند اور تبلیغ ودعوت اسلام ومسلمانوں کی ہمہ گیر خدمتوں کے لحاظ سے ایک دوسرے کا ساجھے دار اور معاون ہے۔
دارالعلوم دیوبند کی پرواز
                مادرعلمی دارالعلوم دیوبند اپنے قیام کے بعد جس اسلامی علوم وفنون کی تعلیم واشاعت، ملک وملت کی دینی ودنیاوی قیادت، تزکیۂ اخلاق، وعظ و تذکیر، تصنیف وتالیف، صحافت وخطابت، دعوت و ارشاد اور ملک کی آزادی کے سلسلے میں، جو خدمات انجام دی وہ تاریخ کا روشن باب اور خدمات کا حسین گلدستہ ہے، علاوہ ازیں اس ادارے نے ایسے ایسے رجال کار تیار کیے، جو علم میں رسوخ، مطالعہ کی وسعت کے ساتھ ساتھ مؤمنانہ فراست، حکیمانہ صلاحیت، ملہمانہ بصیرت، خلوص نیت، ولولۂ دینی، جوش ایمانی، ایثار وقربانی، جذبۂ خدمت کی فراوانی، تواضع وللہیت، اتباع سنت، انابت الی اللہ جیسے اوصاف وکمالات سے متصف تھے، جنھوں نے عالم اسلام میں ایسے ایسے نقوش ثبت کردیے جو برسوں باقی اور جاری وساری رہیں گے؛ بل کہ یوں کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ دارالعلوم دیوبند نے اسلام کی تحریک اور نئی تاریخ دوہرائی، دینی علوم کو غذا پہنچائی  اور امت مسلمہ کو صحیح دین سے اور قرآن وحدیث سے منشائے نبوی اور احکامِ الٰہی سے روشناش کرایا۔(۵)
تبلیغ ودعوت اور اس کی نشوونما
                دعوت وتبلیغ کے متعلق خطیب العصر علامہ عبدالشکور صاحب دین پوریؒ نے یہ فرمایا: الیاس کی محنت ہے کہ جو لوگ فرض نہیں پڑھتے تھے آج ان کی تہجد قضا نہیں ہوتی، جن لوگوں کی نگاہیں غلط تھیں ان کی ادائیں بھی بدل گئیں، جن کی فضائیں ابرآلود تھیں آج روشن وتابناکی کی آسمان میں بدل گئیں(۶)، ہزاروں نہیں؛ بل کہ لاکھوں انسانوں نے اس مشرب سے سیرابی حاصل کی ہے اور کررہے ہیں، اس جدوجہد کی برکت سے جو راہ راست سے دور تھے، جنھیں کلمہ تک یاد نہیں تھا، جو قرآن کی عبارتوں، حدیث کے ترجموں اور دین کی تعلیمات سے بے بہرہ تھے، آج جب وہ اس دعوتی تحریک سے جڑگئے تو ان تعلیمات واحکامات کی حصول یابی کے بعد دوسروں تک بھی اسے منتقل کرنے کی فکر میں لگ گئے اور لگے ہی رہے، بالفاظ دیگر اللہ کے حبیب حضرت محمدﷺ کی لائی ہوئی شریعت واحکامات کو پہنچانے میں تن من دھن کی بازی لگارہے ہیں اور لگاتے رہیں گے، یہاں تک کہ نبی کا یہ فرمان صادق آجائے:  (عن المقداد أنَّہ) یقولُ لا یَبقٰی علی ظہرِ الأرضِ بیتُ حدرٍ أو وَبرٍ إلاّ أدخلَہ اللّٰہُ کلمۃَ الإسلام یعنی اللہ کے نبی کا یہ دین ہر پکے اور کچے گھر میں داخل ہوجائے۔(۷)
                چناں چہ آج اس کا خوب خوب مشاہدہ ہورہا ہے، مولانا محمد الیاسؒ صاحب نے یہ جماعت جو تیار کی ہے، اگر یہ اسی طرح ملک ملک، دیہات دیہات، شہر شہر، محلہ محلہ پھرتی رہی تو انشاء اللہ ہر گھر مسلمانوں، نمازیوں اور دین داروں سے بھرجائے گا، اللہ اللہ کی پکار، اسلام ہی اسلام کی صدا پوری دنیا میں گونجے گی۔
دارالعلوم دیوبندمیں تبلیغی جماعت کی محنت
                اللہ تعالیٰ کا بے پایاںکرم ہے کہ ما شاء اللہ طلبہ کے ساتھ بعض اساتذہ بھی ہر ہفتہ اللہ کے دین کی نشر واشاعت کے لیے قریہ قریہ پھرتے ہیں؛ بل کہ طلبہ چھٹیوں اور رمضان کے موقع پر چلہ اور فارغ ہونے کے بعد ایک سال لگاتے ہیں، جس سے ان کے اندر دینی وعملی انقلاب آجاتا ہے؛ بل کہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کو صراط مستقیم کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ نبی کی دعوت، جدوجہد اور قول وعمل کا سب سے بڑا محرک رضائے الٰہی پیدا ہوجائے، کوئی چیز اللہ کی رضاء کے سوا ان کے سامنے نہیں ہوتی کہ یہ ملے یا وہ ملے(۸)، بل کہ وہ صحیح معنوں میں خلوص وللہیت کا پیکر بن کر احکام خداوندی اور تعلیماتِ نبوی کو عام کرتے ہیں، ہدایت سے بے بہرہ لوگوں کو آبِ ہدایت سے سیراب کرتے ہیں، ان کی زندگی کے نوک وپلک درست کرنے میں دل وجان سے کوشش کرتے ہیں اور اخلاص واستقلال، توکل واعتماد اور زہد وتقویٰ کے ساتھ ہر غریب وامیر، چھوٹے، بڑے اور دین سے بے خبر اَن پڑھ لوگوں کو ایمان وہدایت کی دعوت پیش کرتے ہیں، اپنی دعا وتسبیح اور محنت وکوشش کے ذریعہ ان کی زندگی کو اطاعت وسنت سے آراستہ وپیراستہ کرتے ہیں۔
                اگر ان کی زندگی کا قریب سے جائزہ لیا جائے تو ایسا معلوم ہوگا کہ یہ لوگ درحقیقت صحابہؓ کی زندگیوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں، وہ اس منظر کی تاریخ  دوہراتے ہیں۔؎
خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا
مأخذ ومراجع
(۱)          ص:۹، خطبۂ صدارت کل ہند اجلاس عام رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند، منعقدہ ۱۴؍مئی ۲۰۰۷ء و ص:۲۹ مدارس اسلامیہ کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کی حقیقت۔
(۲)         ص:۷، اسلام اور فریضۂ تبلیغ : مولانا حسین احمد مدنی۔
(۳)         ص:۴۰، نقوش اسلام مارچ ۲۰۰۶ء۔
(۴)         ص:۳، دارالعلوم دیوبند کے ماضی وحال سے متعلق کچھ ضروری باتیں و ص:۴۲ علمائے دیوبند کون اور کیا ہیں؟
(۵)         ماخوذ خطبہ صدارت مذکورہ۔
(۶)          ص:۳۱۱، خطبات دین پوری۔
(۷)         ص:۱۶، مشکوٰۃ شریف۔
(۸)         ماخوذ از کتاب ’’دین کا نبوی مزاج اوراس کی حفاظت کی ضرورت‘‘۔
http://darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/06-Hindustan%20men%20Din-e-Islam_MDU_6_June_11.htm

Wednesday, 1 June 2016

نقصان اسلام مسلمانوں اور انسانیت کا


ایک گزارش اور درد مند اپیل
آجکل انٹرنیٹ پر کچھ حلقوں کی طرف سے یہ پھیلایا جا رہا ہے کی تبلیغی جماعت کے افراد مدارس کے خلاف ہیں ۔یا علما اور اہل علم و ذکر کی بے اکرامی کررہے ہیں۔راقم لگ بھگ 20 سال سے دعوت و تبلیغ کے کام سے جڑا ہے۔اور پورےہندوستان میں جاتا رہا ہے۔اور خوانہ بدوش (کم پڑھے لکھے ) سے لیکر بڑے بڑے  تعلیم یافتہ جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ چلا ہوں ۔مجھے تو ایسے لوگ نہیں ملے۔اسکے بعد بھی میں انکار نہیں کر رہا ہوں کے ایسے لوگ بالکل نہیں ہیں۔ لیکن ایک بات صا ف ہے کی تبلیغی جماعت کا سواد اعظم ایسا نہیں ہے۔
اسلئے جو لوگ اپنے ذاتی تجربہ کے بنیاد پر یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے افراد مدارس کے خلاف ہیں ۔یا علما اور اہل علم و ذکر کی بے اکرامی کررہے ہیں ان سے درخواست ہے کے وہ اس کی وضاحت کر دیں کہ تبلیغ کی اکثریت ایسی نہیں ہے۔اور یہ تبلیغی جماعت کے بالکل بنیاد کے خلاف ہے۔اور انہیں  چاہیئے کہ وہ اپنی شکایت نظام الدین مرکز یا رایونڈ  مرکز لکھ دے ۔یہ دین کی بڑی خدمت  ہوگی ۔اور اگر کوئی  کسی اور وجہ  سے یا کسی فرد سے ذاتی  رنجش کی وجہ سے 
تبلیغی جماعت  کے کام کو بدنام کرے گا تو یہ آخرت کے اعتبار سے بڑا خطرہ ہے۔

نقصان اسلام  مسلمانوں اور انسانیت  کا
 تبلیغی جماعت  عوام کی سطح پر مسلمانوں کو دین  سے جوڑنے کی محنت ہے۔جو سارے عالم میں  علماء کرام کی سر پرستی میں چل رہی ہے۔اور اللہ ہی اتنے بڑے نظام کو چلا سکتا ہے ۔ورنہ اس مادیت کے دور جب ہر کوئی اپنی دنیا بڑھانے کی فکر میں ہے۔لاکھوں لوگ بغیر کسی پیسہ اور مال کی لالچ میں اپنا  پیسہ   اور وقت خرچ کر کے ،تکلیف برداشت کرکے انسانیت کو اللہ کے دین سے جوڑنے کی فکر میں لوگوں کے دروازہ پر جا رہے ہیں۔ کم علمی نادانی  یا تعصب کی وجہ سے کچھ نادان مسلمان تبلیغی جماعت کے خلاف عام مسلمانوں کو بہکاتے اور وسوسہ ڈالتے ہیں ۔تبلیغی  جماعت میں نہ کوئی  پوسٹ نہ پیسہ ممبرشپ  اور فنڈ نہیں ہے اسلئے اسکے نقصان اور فائدہ کا سوال ہی نہیں ۔ تبلیغی جماعت کی مخالفت   دراصل اسلام ، مسلمانوں اور انسانیت  کا نقصان ہے۔

تبلیغی جماعت غلطیوں  سے مبرہ  نہیں  ہے ۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ تبلیغی جماعت غلطیوں سے مبرہ ہے  ۔اسکے افراد میں اور اسکے اصولوں میں دونوں میں غلطی کا امکان ہے اور اصلاح کی گنجائش ہے ۔اور علماء حق کی ذمہ داری اور وقت کی ضرورت ہے  کہ اصلاح کی باتوں پر ضرور گرفت کی جائے  ۔ اور اس سلسلے میں تبلیغ  سے جڑے عوام سے لیکر علماء اکابر اور مرکز نظام  الدین کے ذمہ دار کوئی مستثنیٰ  
نہیں  ۔

تبلیغی جماعت  کی  ممکنہ غلطیوں کے اصلاح کا طریقہ
اس کا طریقہ یہ ہے کہ افراد سے اگر کوئی غلطی ہو رہی ہے تو یہ واضح کر دیا  جائے کہ یہ اس فرد کی غلطی ہےتبلیغی جماعت کی نہیں اور اصول اور طریقہ کار میں کوئی اصلاح یا گرفت کی بات ہو تو    مرکز نظام الدین یا مرکز رائونڈ سے براہ راست رابطہ کیا جائے  ۔ اس سلسلے میں اگر سفر کرنے کی بھی ضرورت  پیش آئے تو یہ دین کی بڑی خدمت ہوگی  ۔ کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں لوگ اس کام سے جڑے ہیں  ۔  اور آپ کو ان سب کی اصلاح اور آگے جڑنے والوں کی اصلاح  کا ثواب ملے گا ۔

تبلیغ سے جڑے لوگوں سے خاص  درخواست
اسی کے ساتھ تمام تبلیغ سے جڑے لوگوں سے درخواست ہے کہ اگر کسی سے یہ غلطی ہوئی ہے تو اللہ سے اور اس بندہ سے معافی مانگے۔اور اگر آپ کوئی تحریر ایسی  دیکھں تو  اسکی طح میں جائیں ۔اور اگر بات صحیح ہے تو اپنے ساتھی کی اصلاح کریں ۔اور فرد کی مراتب کے اعتبار سے اپنے بڑوں تک پہنچائیں۔تاکہ سب کی اصلاح ہو جائے۔
اور اگر غلط ہو تو یہ بات الزام لگانے والے پر پہچائیں  کہ یہ بات غلط تھی ،اور صبر کریں۔میں نے اس طرح کی ایک واقعہ کی  تحقیق کی تو معلوم ہوا کی  دوشخص کی  آپسی رنجش اصل وجہ تھی۔اور وہ ساتھی کسی ترتیب سے نہیں جڑا تھا اور جماعت میں  یا مقامی کام میں کوئی پابند نہیں تھا۔بہر حال   اگر کسی سے یہ غلطی ہوئی ہے تو اللہ سے اور اس بندہ سے معافی مانگے ۔

رح یہ مضمون اس طرح کی بات اور تبلیغ اور مدارس سے جڑے تمام پہلوئوں پر ہمارے مضامین کا حصہ ہے۔اس سلسلے کا کوئی مضمون بھی بھیج سکتے ہیں۔ دعا کی خصوصی درخواست ہے۔
::::